نئی دہلی، 21؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ایک پارلیمانی پینل نے مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو مہشری کی یہ دلیل مسترد کر دی ہے کہ چنئی میں سیلاب جیسی تباہی کے لیے تیاری نہیں ہو سکتی ہے جو 100سال میں ایک بار آتی ہے۔وزارت داخلہ سے منسلک پارلیمنٹ کی مستقل کمیٹی نے چنئی میں آفت پر اپنی رپورٹ راجیہ سبھا کو سونپی ہے جس میں اس نے سختی سے سفارش کی ہے کہ وزارت داخلہ اپنے ماتحت متعلقہ ایجنسیوں کے ذریعے سے اپنی ڈیزاسٹر تیاریوں کو مضبوط کرے۔چنئی میں شدید بارش سے سیلاب آ گیا تھا ۔کانگریس ممبر پارلیمنٹ پی بھٹاچاریہ کی قیادت والی کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے مرکزی داخلہ سکریٹری نے کہا تھاکہ ویسی تباہی کے لیے کوئی تیاری نہیں ہو سکتی جو 100سال میں ایک بار آتی ہے کیونکہ تباہی کے لیے تیاری کی لاگت بہت زیادہ ہوگی۔پینل نے کہا کہ اسے یہ دلیل ہضم نہیں ہوپائی کہ چونکہ بارش غیر متوقع تھی اور100 سال کے اوسط سے بھی زیادہ تھی اس لیے نقصان بھی زیادہ ہوا۔اس نے کہاکہ کمیٹی کی رائے میں زیادہ شدت والی کسی بھی قدرتی آفت میں نقصان کا رجحان ہوتا ہے۔ایسے میں قدرت پر الزام لگانے کے بجائے ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے ۔کمیٹی نے مشورہ دیا کہ اسٹینڈرڈ پراببلیٹی انڈیکس تیار کر کے تمام اہم شہروں کا تباہی کا نقشہ تیار کرنے کے لیے الگ سے قدم اٹھایا جانا چاہیے تاکہ جان و مال کا نقصان کم سے کم ہو۔اس نے 198صفحات کی اپنی رپورٹ میں کہاکہ اس کے علاوہ مرکز اور ریاستی دونوں کی انتظامیہ کو مل کر کام کرنا چاہیے اور صورت حال سے نمٹنے کے لیے مستعد رہنا چاہیے ۔